{"title":"Huma Anwar","description":"","products":[{"product_id":"مفرور-ناول-mafroor-novel-author-fatima-bhutto","title":"مفرور\n\n(ناول)\n\nMafroor\n\n(Novel)\n\nAuthor: Fatima Bhutto","description":"","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46781878534443,"sku":"","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Mafroor-500x500.jpg?v=1693680055"},{"product_id":"خانہ-ٔ-معصومیت-khana-e-masumiyet-author-orhan-pamuk","title":"معصومیت Khana e MasumiyetAuthor: Orhan Pamuk","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-129-7\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e576\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardcover\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2020\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eTranslator\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHuma Anwar\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cdiv\u003eنوبل انعام یافتہ ترک ادیب اورحان پاموک کا زیرنظر ناول ”خانۂ معصومیت“ ان کے 2008ءمیں شائع شدہ ناول \"The Museum of Innocence\" کا اردو ترجمہ ہے۔یہ نوبیل انعام جیتنے کے بعد اُن کا لکھا گیا پہلا ناول ہے۔\u003cbr\u003eمحبت کی یہ ناقابل فراموش داستان ”خانۂ معصومیت“ داستانوی، حسین اور فسوں خیز شہر استنبول کے پس منظر میں بیان کی گئی ہے۔1970ءاور 1980ءکے دہائی کے استنبول، اس کے گلی محلوں، اس کے باسیوں، اس کے موسموں، اس کے خستہ حال چوبی گھروں اور محل سراﺅں کی جگہ سر اٹھاتی اپارٹمنٹ بلڈنگوں اور اس شہر کی خصوصاً اپر کلاس کی سماجی زندگی کی کہانی۔ زیرنظر ناول میں اسی کچھ روایتی کچھ مغربی استنبول کی سماجی اور ثقافتی تصویرکو اگلے زمانوں کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔اورحان پاموک کا یہ ناول،تاریخ اور سماجیات کے د ائرہ کار سے باہر، اس زمانے کو محفوظ کرنے کی ایک نایاب تخلیقی کوشش ہے۔ ایک ناول نگار کے طور پر یہ فریضہ صرف اورحان پاموک ہی ادا کرسکتے تھے جنہوں نے اپنے شاہکار ناول ”سرخ میرا نام“ میں پانچ سو سال قبل کے منی ایچرمصوروں کو کمال مہارت سے پیش کیا۔\u003cbr\u003eبورژوا روایتوں سے متصادم عشق کی یہ کہانی، جس کا مرکزی کردار کمال پہلے سے اپنے طبقے کی ایک لڑکی سبل سے منگنی کرچکا ہے، اب اپنی نوعمر مگر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی کزن فسون کے حُسن کا اسیر ہوجاتا ہے جو ایک بوتیک میں ملازم ہے۔ اپنی رومانوی وابستگی کا علاج وہ پُراسرار طور پر اپنی محبوبہ سے وابستہ اور اس کی یادوں سے معمور چیزوں میں پاتا ہے۔ اپنی طویل جستجو اور محبت کے الم ناک انجام کے بعد، کمال جو خود کو ثقافتی محقق قرار دیتا ہے، انہی اشیا کو لے کر اپنی حسین اور نوجوان محبوبہ کی یاد میں ایک میوزیم بناتا ہے۔میوزیم جہاں اس کے بقول زمان کو مکان میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46852358144299,"sku":"","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Khana_e_Masumiyet-250x380_1.jpg?v=1694468549"},{"product_id":"جہاں-برف-رہتی-ہے-jahan-barf-rehti-hai-author-orhan-pamuk","title":"جہاں برف رہتی ہے\n\nJahan Barf Rehti Hai\n\nAuthor: Orhan Pamuk","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-152-5\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e464\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardbound\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2019\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eTranslator\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHuma Anwar\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003eنوبل انعام یافتہ ترک ادیب اورحان پاموک ناول نگاری کے فن میں بے مثال ہیں۔ زیرنظر ناول ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ ان کے 2002ء میں شائع شدہ ناول ــ\"Kar\" کا اردو ترجمہ ہے جو انگریزی میں \"Snow\" کے نام سے شائع ہوا۔ \u003cbr\u003eناول کا مرکزی کردار ایک ترک شاعر قا، جرمنی میں جلاوطنی کے بارہ برسوں کے بعد ، اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لیے ترکی واپس لوٹتا ہے۔ استنبول کے ایک اخبار کا ایڈیٹر اسے ترکی کے ایک کاکیشیائی شہر قارص کے انتخابات اور وہاں لڑکیوں میں خودکشی کے رحجان کی تحقیق کے لیے بھیجتا ہے۔ متواتر ہونے والی برف باری میں گلی گلی، دکان دکان گھومتے قا(Ka) اس اداس مگر حسین شہر اور اس کے لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ قارص جہاں بے روزگاروں سے بھرے چائے خانے ہیں؛ ایک سفری تھیٹریکل کمپنی؛ لڑکیاں جو حجاب پر پابندی پر احتجاج اور خودکشیاں کرتی ہیں، متعدد سیاسی گروپ؛ قارپیلس ہوٹل، اس کا مالک طغرت بے اور اس کی بیٹیاں کدیفے اور آئپک، جو قا کی سکول کی ساتھی رہ چکی ہے اور اب قا کے لیے محبت اور مسرت کے حصول کی ایک امید ہے۔ ناول کا ہر کردار اپنی جگہ مرکزی اور منفرد ہے، وجیہہ اسلام پسند مسلح جنگجو لاجورت سے لے کر، فوجی سازش کا منصوبہ بناتا ہوا زی دمیرکول، سفری تھیٹر کمپنی کا مالک اداکار سونے زائم اور اس کی بیوی،فوجی جو قارص کے نیشنل تھیٹر میں براہِ راست نشریات کے دوران حاضرین پر فائرنگ کھولتے ہیں، اخبار مالک سردار بے جو ایک روز پہلے ہی خبریں لکھ کر شائع کرنے کا عادی ہے، اسلام پسند طالب علم نجیب اور فاضل۔\u003cbr\u003eناول میں قارص برف باری کے سبب دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ قار یعنی برف جو بے شجر میدانوں، قلعے، دریا اور قارص کی سڑکوں پر مسلسل گرتی ہے، اسی سے شہر کا نام نکلا ہے۔یہ شہر اپنی آرمینی تہذیب کی یادگاروں اور زارِروس کے زمانۂ حکومت کے علاوہ اپنے شدید موسمی حالات کے باعث معروف ہے۔ 1999ء سے 2001ء کے درمیانی عرصے میں لکھا گیا یہ ناول ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض بڑے معاملوں کو زیرِ بحث لاتا ہے۔ مشرق اور مغرب میں تہذیبی تصادم، سیکولر ریاست اور اسلامی حکومت میں اختلاف، غربت، بے روزگاری، مذہبی بنیاد پرستی کی جانب رحجانات، ترکی میں خواتین کے حجاب کا معاملہ اس ناول کے موضوعات ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46852378886443,"sku":"","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Jahan_Barf_Rehti_Hai-250x380.jpg?v=1694468972"},{"product_id":"چالیس-چراغ-عشق-کے-کہانی-جلال-الدین-رومی-کی-chalees-charagh-ishq-ke-kahani-jalal-ud-din-rumi-ki-author-elif-shafak","title":"چالیس چراغ عشق کے\n\nکہانی جلال الدین رومی کی\n\nChalees Charagh Ishq Ke\n\nKahani Jalal ud Din Rumi Ki\n\nAuthor: Elif Shafak","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-067-2\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e384\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardbound\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2017\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eTranslator\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHuma Anwar\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eایلف شفق ، ترکی کی مقبولِ عام ادیبہ ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں میں پیش کردہ مشرق اور مغرب کے خوبصورت امتزاج کے باعث دنیا بھرمیں معروف ہیں۔ ناقدین کے مطابق، وہ ہم عصر ترکی ادب اور عالمی ادب میں ایک جداگانہ آواز ہیں۔ ان کی تحریروں کا موضوع خواتین، حقوقِ نسواں، اقلیتیں، تارکین وطن اور ان کے مسائل، متنوع ثقافتیں، ثقافتی سیاست، تاریخ، فلسفہ اور خصوصاً صوفی ازم رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eایلف شفق کو ان کے ناول \"The Forty Rules of Love\" پر عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ ’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ اسی ناول کا اردو ترجمہ ہے جو ترکی زبان میں \"Ask\" کے نام سے لکھا گیا تھا۔ ناول کی کہانی حقیقت اور تخیل کا امتزاج ہے اور معروف صوفی شاعر جلال الدین رومی اور درویش شمس تبریز کے گرد گھومتی ہے۔ ’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ دو مختلف زمانوں میں دو ایسی محبتوں کا بیان ہے، جن کی بنیاد تصوف تھی۔ ناول کا مرکزی کردار امریکی ریاست میساچوسٹس میں مقیم ایک گھریلو خاتون ایلا ہے، جس کی زندگی کی ڈگر ایک صوفی درویش سے رابطے پر بدل جاتی ہے۔ایلف شفق نے انتہاپسندی اور عدم برداشت سے بھری اس دنیا میںمولانا روم اور شمس تبریز کی صورت محبت کی آفاقیت اور انسانیت سے محبت کا فلسفہ بیان کیا ہے۔ اپنے روحانی استاد اور رفیق کی یاد میں، مولانا روم نے اپنے شہکار شعری دیوان کو’’ دیوانِ شمس تبریز‘‘ کا نام دیا۔ان کی لازوال صوفی شاعری، مثنوی مولوی معنوی کو ’’ہست قرآں درزبانِ پہلوی‘‘ کہا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاس سے قبل ایلف شفق کے ناول \"Honour\" کا اردو ترجمہ ’’ناموس‘‘ کے نام سے جُمہوری پبلیکیشنز سے شائع ہوچکا ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003e\u003cspan\u003eWINNER of the Academy of Letters, Best Translation Award 2018\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46852609868075,"sku":"","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Chalees_Charagh_Ishq_Ke-250x380.jpg?v=1694471859"},{"product_id":"بابِ-ارغوان-وہ-جو-تاریک-راہوں-میں-مارے-گئے-baab-e-erghuvan-woh-jo-tareek-raahon-mein-maray-gaye-author-oya-baydar","title":"بابِ ارغوان\nوہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے\nBaab e Erghuvan\nWoh Jo Tareek Raahon Mein Maray Gaye\nAuthor: Oya Baydar","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003cthead\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd colspan=\"2\"\u003e\u003cstrong\u003eBook Details\u003c\/strong\u003e\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/thead\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-228-7\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e504\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardcover\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2024\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eTranslator\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHuma Anwar\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003e’’بابِ ارغوان‘‘، اویابیدر کے ناول Erguvan Kapısı (The Gate of Judas Tree) کا اردو ترجمہ ہے جس پر انہیں جودت قدرت ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ اویا بیدار کے لطیف اسلوب سے تشکیل پانے والا زیر نظر ناول ’’بابِ ارغوان‘‘ ایک منفرد ادبی کارنامہ ہے۔ یہ ناول سماجی تبدیلیوں سے بھری ترکی کی حالیہ تاریخ میں گویا ادبی سفر ہے۔ ایک شان دار ناول جو ترکی کے پچھلے تیس برس کے سیاسی اور سماجی پینوراما کو ادبی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ناول ہمیں ترک سماج کی اُن پرتوں سے متعارف کرواتا ہے کہ جن سے ہمارے عوام تو کیا دانشور حلقے بھی نابلد ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار استنبول کا داستانوی شہر ہے، اور ایک نہیں دو استنبول، غریبوں کا اور امیروں کا، لیکن دنیا کے دوسرے شہروں کے برعکس یہاں دونوں شہر ایک دوسرے کے بالکل ساتھ ساتھ آباد ہیں، ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے۔ ایک استنبول دوسرے کے عین بیچ میں موجودہے۔ایک ہی وقت میں، وہ ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہیں۔ باسفورس کی پہاڑیوں پر حویلیاں، ولاز اور پُرتعیش مکانات سمندر کے رخ پر ہیں، جب کہ دوسری طرف کی ڈھلانوں پر کچی آبادیاں اور جھونپڑپٹیاں، کوڑے کے ڈھیر اور چھپر ہیں۔ ’’بابِ ارغوان‘‘ استنبول میں چار مختلف کرداروں کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی زندگیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ تھیو، اُلکو، ڈیرن اور کریم علی جو سماجی انتشار کے زیر اثر دَور میں ترکی کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eاویا بیدر، جمہوریہ ترکیہ کی جرأت مند ترقی پسند ایکٹوسٹ اور مقبولِ عام ترک ادیبہ ہیں۔ وہ اپنی نوجوانی ہی سے قلم اور عمل کے ذریعے اس بائیں بازو کی طبقاتی جدوجہد کا حصہ ہیں جس نے ترکی کی سیاست اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اویا بیدر نے سکول کے زمانے سے ان نظریات کا پرچم اور قلم اٹھالیا تھا۔ ایک کم سن لڑکی کے قلم سے لکھی گئی تحریر نے ترکی میں ارتعاش پیدا کردیا اور پھر اویا بیدر عمل و قلم کے اس کارواں کی مسافر بن گئیں۔ اس دوران انہوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی کا کرب بھی سہا۔ کمیونسٹ ہونے کی بنا پر 1980ء میں ترکی کے تیسرے مارشل لاء کے آغاز پر ان کی ترک شہریت سلب کرلی گئی اور وہ  بارہ برس تک برلن سمیت کئی یورپی شہروں اور ماسکو میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرتی رہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":49575359119659,"sku":"","price":1780.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Baab-e_Erghuvan-250x380.jpg?v=1726142415"}],"url":"https:\/\/bookshut.store\/collections\/huma-anwar.oembed","provider":"Books Hut","version":"1.0","type":"link"}